مؤذن کے ساتھ زیادتی
سوال
اگر کوئی موذن کسی وقت کی اذان مقررہ وقت گذر جانے اور نماز کا وقت قریب آجانے پر بے وضو کہہ دے اور باز پرس پر جواب دے کہ آج کی فلاں اذان وقت کی تنگی کی وجہ سے بے وضو دی ہے، جب کہ میری عادت بلا وضو کہنے کی نہیں ہے، بلکہ وضو کر کے ہی اذان دیتا ہوں، اس جواب پر مسجد کے منتظم حضرات سخت کلامی اور سخت گفتگو کرتے ہوئے، گریباں کشی اور ہاتا پائی کا سلوک مؤذن کے ساتھ کریں تو کیا ان لوگوں کا یہ فعل از روئے شرع جائز ہے، اگر جائز نہیں ہے تو ایسے شخص کا خدا کے یہاں کیا حشر ہوگا، جس نے بہانہ بنا کر مؤذن کو مارا؟
جواب
یہ مؤذن کے ساتھ زیادتی اور ظلم ہے اس سے معافی مانگ کر اس کو راضی کیا جائے، ور نہ آخرت کا وبال سر پر رہے گا، دنیا میں بھی بدلہ ملنے کا اندیشہ ہے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔