پست آواز سے اذان
سوال
جو شخص کسی مخالفت کی وجہ سے پرو پیگنڈہ بناتا ہے، خود بھی دوسروں کو بھی تبلیغ کرے کہ اذان آہستہ دینی چاہئے، جہاں سے بعض نہ سن سکیں، اور ایسا کرتا ہے، مثلاً اذان کی جگہ مسجد کے آگے ہے وہ کہتا ہے کہ یہ مسجد کے پیچھے دینی چاہئے، تاکہ دوسرے نہ سنیں، اور ہم پہلے ہی نماز پڑھ لیں وہ یوں ہی علیحدہ ہو کر پڑھیں گے، مقصد سوال یہ ہے کہ شرعاً ایسے شخص کا کیا درجہ ہے، کیا ایسا شخص بھی امامت کا مستحق ہے، اور مقتدیوں کو ایسے شخص کی اقتدا کرنا چاہئے، نیز ایسے شخص کو اذان دینے کی اجازت ہے یا نہیں؟
جواب
اذان بلند آواز سے بلند جگہ پر دی جائے، کہ زیادہ دور تک آواز پہنچے، جہاں تک مؤذن کی آواز پہنچے گی وہاں تک کی ہر چیز موذن کے حق میں گواہی دے گی، اذان آہستہ کہنا تا کہ دوسروں تک آواز نہ پہنچے، مقصد اذان کو فوت کرتا ہے، اور ایسا کرنا مکروہ ہے پھر اس نیت سے آہستہ اذان کہنا کہ کچھ لوگ جماعت سے محروم رہ جائیں نہایت غلط اور پست قسم کا قابل ملامت جذبہ ہے، جو روح اذان اور اخوت اسلام کے…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔