بینک سے سودی قرض
سوال
یہاں ملیشیا میں تجارت پیشہ مسلمان آباد ہیں، وہ لوگ بینک سے تجارت کے لئے روپیہ لیتے ہیں، بینک ان سے ایک فیصد زائد وصول کرتا ہے، اسی طرح کچھ لوگ ملازمت پیشہ ہیں، وہ گورنمنٹ سے قرض لیتے ہیں، تو ان کو نصف فیصد یعنی سوروپے میں نصف روپے زائد دینا پڑتا ہے، یہ سود ہوا یا نہیں؟
جواب
یہ سود ہے، سود لینے اور سود دینے والے پر حدیث شریف میں لعنت آئی ہے، اور دونوں کو گناہ میں برابر فرمایا گیا ہے، عن جابر قال لعن رسول الله ﷺ اكل الربو وموكله وكاتبه وشاهديه وقال هم سوآء رواه مسلم اھ مشکوة شریف، ص ۲۴۴
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔