حکومت کے سودی قرضے اور بینکوں کے سود کا شرعی حکم
سوال
حکوت کے ترقیاتی منصوبوں میں ہندوستانی عوام کی خوش حالی اور فلاح و بہبود کے لئے بہت سے شعبے قائم کئے گئے ہیں، جس کے ذریعہ حسب ضرورت و مصلحت طویل المیعاد قرضے دیئے جاتے ہیں، اور برائے نام سود لیا جاتا ہے۔ چھوٹی انڈسٹریوں سے لیکر بڑی بڑی فیکٹریوں پلانوں تک میں حکومت قرض دیتی ہے، اس سے غیر مسلم حضرات خاطر خواہ فائدہ اٹھا رہے ہیں، اور دن بدن اقتصادی میدان میں ترقی کرتے چلے جارہے ہیں، مسلمانوں کو اس قرضے کے لینے میں دشواری یہ ہے کہ اس میں سود دینا پڑتا ہے، نیز آج کل لین دین اور تجارتی معاملات بڑی حد تک سودی طور پر چل…
جواب
سود کی حرمت فروعی اور استنباطی نہیں، بلکہ منصوص اور قطعی ہے، ” وحرم الربو، اللہ تعالیٰ نے سود کو حرام قرار دیا ہے۔ تحریم ربو نازل ہونے پر بقایا سود کے وصول کرنے کی بھی ممانعت کر دی گئی، بلکہ اس کو بمنزلہ شرط ایمان قرار دیا گیا۔ جو لوگ سود لینے سے باز نہ آئیں ان کے لئے اعلان جنگ ہے: سود خور کے حشر کو اس طرح بیان کیا گیا ہے: سود خور کے لئے سخط وعید ہے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔