الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

مکان مرہون میں رہنا

سوال

ایک شخص نے ایک مکان بعوض مبلغ آٹھ سو روپیہ گروی رکھا ہے، تقریباً چھ سات برس کا عرصہ ہو گیا ہے، گروی رکھے ہوئے، اور گروی رکھنے والا اس مکان میں کبھی خود رہتا ہے اور کبھی اپنے کسی رشتہ دار کو رکھتا ہے، اور مکان اس درجہ کا ہے کہ اگر کرایہ پر دیا جائے تو کم از کم چار روپیہ کرایہ پر چڑھ سکتا ہے، اب یہ دریافت کرنا ہے کہ آیا اس گروی رکھنے والے کو مکان مذکور میں اس طرح بود و باش کرنا شرعاً جائز ہے یا نہیں، اور اگر در صورت نا جائز ہونے کے مکان مالک کو دیدے اور اپنا روپیہ وصول کرلے، اس سے تو جو نفع اس نے چھ سات برس کے زمانہ…

جواب

مرتہن کو مکان مرہون میں رہنا نا جائز ہے، اگر اس مکان میں رہے گا تو غاصب کہلائے گا، اور گنہگار ہوگا، اور ایسی صورت میں منافع غصب کا تاوان لازم نہیں، ”او عقد کبیت الرهن اذا سكنه المرتهن ثم بان للغير معد للاجارة فلاشئی علیه اھ درمختار۔ قال الشامي قوله فلاشئى عليه لانه لم يسكنها ملتزما للاجر کما لورهنها المالك فسكنها المرتهن اھ ردالمحتار ج ۵ ص ۱۸۱۔“

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو