الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

توسیع مدت رہن پر معاوضہ

سوال

زید نے اپنا ایک مکان بکر کے پاس با قبضہ مبلغ تین سو روپے پر دو سال کے لئے رہن رکھ دیا، اور فسخ رہن کی تاریخ مقرر کر کے دستاویز تحریر کر دیا، اگر متعینہ وقت پر نہ دے سکا تو یہ رہن نامہ بیع نامہ متصور ہوگا، جب مدت رہن ختم ہونے لگی، تو زید نے مزید تین سو روپیہ بکر سے لیکر فسخ رہن کی تاریخ میں اضافہ کر لیا، اور جب مزید توسیع قریب الختم ہونے کو آئی تو پھر مبلغ دو سو روپیہ بکر سے لے کر پھر دستاویز تحریر کر دی، کہ اگر میں ۱۹۶۴ء تک فسخ رہن نہ کروں تو یہ رہن بیع نامہ ہوگا، چنانچہ ۱۹۶۴ء شروع ہو گیا، اب زید چاہتا ہے کہ مکان…

جواب

تحریر رہن کی تاریخ معین گذر جانے پر بیع نامہ تصور کرنے کی تصریح شرعاً صحیح نہیں، شرعاً بیع نہیں، زید قرض واپس کر کے مکان بصورت رہن واپس لے سکتا ہے، بکر نے اس مدت رہن میں مکان سے نفع حاصل کیا تو وہ نا جائز ہوا، سود ہوا۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو