جنازہ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم پر نماز کی کیفیت
سوال
حضرت ابن مسعود روایت کرتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے حضرت ابو بکر صدیق سے فرمایا جب تم مجھ کو نہلا کر کفناؤ تو چار پائی میرے اس حجرہ میں قبر کے کنارے پر رکھ کر ذرا ایک ساعت کے لئے باہر چلے جانا کہ اول جو مجھ پر نماز پڑھے گا وہ میرا پروردگار جل شانہ ہے کہ وہ اور اس کے فرشتے رحمت بھیجتے رہتے ہیں۔ (از مذاق العارفین ترجمہ احیاء العلوم الدین جلد چہارم باب دہم موت کے ذکر میں باب الوفات ۱۰ رص ۱۸۷۴-۱۸۷۵ مترجم مولانا محمد احسن صدیقی نانوتوی)
جواب
طبقات ابن سعد میں روایت ہے کہ واقدی راوی ہیں اور ضعیف ہیں، نیز مرسل ہے، علامہ عراقی نے تخریج میں ایسا ہی فرمایا ہے کمافی ہامش احیاء العلوم ج ۴ رص ۴۰۰ یہاں عبارت میں لفظ صلوۃ ہے، جب صلوٰۃ کو اللہ تعالیٰ کی جانب منسوب کیا جاتا ہے تو اس سے رحمت مراد ہوتی ہے، یہی حق تعالیٰ شانہ کے شان کے لائق ہے، یہ مراد نہیں کہ اللہ تعالیٰ رفع یدین کر کے تکبیر کہہ کر ہاتھ باندھیں گے اور…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔