کتاب دین ودنیا کی ایک حدیث کی تحقیق
سوال
مفتی شوکت علی صاحب فہمی کی ایک کتاب دین و دنیا سے ایک عبارت نقل کر کے احقر نے دار الافتاء میں برائے جواب دیا، اس کا جواب صرف یہ دیا گیا کہ یہ حدیث موضوع غیر معتبر ہے، مگر عوام کے لئے یہ تسلی بخش جواب نہیں ہے، احقر سے بار بار دریافت کرتے ہیں، کہ اگر حدیث ہے تو حضرات علماء دین اس پر عامل کیوں نہیں؟
جواب
یہ بالکل غلط ہے، حدیث شریف کی کتابیں چھپی ہوئی ہیں، بخاری شریف، مسلم شریف، ابوداؤد شریف، ترمذی شریف، نسائی شریف، ابن ماجہ شریف، طحاوی شریف، مشکوۃ نسائی شریف، دارمی شریف، دار قطنی شریف و غیره و غیره کسی کتاب میں یہ بات مذکور نہیں، جو شخص اس چیز کے صحیح ہونے کا دعوی کرتا ہے، وہ حدیث شریف میں دکھائے، مطالبہ اس سے کیا جائے، ریاض المقاصد ہو یا کوئی اور ہو جب تک حدیث شریف میں نہ…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔