شب قدر کی تعیین ستائیسویں رات کو
سوال
شب قدر کو رمضان شریف کے اخیر دس دنوں کی طاق راتوں میں تلاش کرنے کا حکم ہے، تو پھر ہمیشہ اور ہر سال رمضان شریف کی ستائیسویں شب کو ہی شب قدر منانا اور اسی شب کو قرآن شریف کا ہر سال ختم کرنا بدعت ہوگا یا نہیں؟ صرف اسی رات کو زیادہ عبادتیں کرنا، تلاوت قرآن شریف اور خصوصا حافظوں کا ختم قرآن کرنا اسلاف اور کسی حدیث سے ثابت ہے کیا؟ اور کیا حکم ہوگا؟
جواب
شب قدر کو عشرہ اخیرہ کی طاق راتوں میں تلاش کرنے کے لئے فرمایا گیا ہے مگر بہت سے علماء نے قرآئن سے ستائیس کو ترجیح دی ہے، کہ ظن غالب یہ ہے کہ ستائیسویں شب ہے لیکن اس پر یقین نہیں اس طرح کہ دوسری راتوں کی نفی کر دی جائے، ظن غالب کی بناء پر اگر ستائیس کو ختم قرآن پاک تراویح میں کیا جائے تو یہ افضل و مستحب ہے، کذا فی البحر الرائق یقینی طور پر اسی رات کو شب قدر کہنا اور دوسری راتوں…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔