الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

اعمال امت کی پیشی

سوال

عُرِضَ أَعْمَالُ الْأُمَّةِ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْخَمِيسِ کی روایت نہیں ملتی۔ مشکوۃ و مرقاۃ وغیرہ میں باب الشحناء میں ایک دوسری روایت تو ہے اور بھی کہیں اب تک نہیں ملی۔

جواب

احقر کا خیال ہے کہ یہ عرض علی اللہ تعالیٰ ہے جیسا کہ فَأُحِبُّ أَنْ يُعْرَضَ عَمَلِي وَأَنَا صَائِم سے معلوم ہوتا ہے اسی باب کی فصل ثالث میں یہ بھی ہے يَغْفِرُ اللَّهُ فِيهِمَا لِكُلِّ مُسْلِم إِلَّا ذَاهَا جِرِينَ يَقُولُ دَعْهُمَا حَتَّى يَصْطَلِحَا۔ رواہ احمد ابن ماجہ اھ اس سے بھی اسی خیال کی تائید ہوتی ہے ”العرف الشذی میں علی اللہ کی تصریح بھی ہے۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو