لوگوں کی رعایت میں قرآن سنوار کر پڑھنا
سوال
حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک مرتبہ قرآن شریف کی تلاوت فرمارہے تھے کہ رسول اللہ ﷺ نے سنا تو تعریف فرمائی، جب ان کو پتہ چلا تو انھوں نے فرمایا کہ اگر ہم کو معلوم ہوتا کہ رسول اللہ ﷺ سن رہے ہیں تو اور اچھا پڑھتا۔ اس سے معلوم ہوا کہ کسی کی فرمائش پر قرآن پڑھا جائے اور خوب سنوار کر پڑھا جائے تو جائز ہے۔ لہذا اگر نماز تروایح میں کسی کی رعایت سے خوب سنوار کر اس کا دل خوش کرنے کے لئے پڑھا جائے تو کیا حکم ہے کہ مومن کا دل خوش کرنا بھی ثواب ہے؟
جواب
اس میں شک نہیں کہ مومن کا دل خوش کرنے میں بھی ثواب ہے، لیکن جو عبادت اللہ تعالیٰ کے لئے کی جاتی ہے اس میں نیت اللہ تعالیٰ کو خوش کرنے کی ہی ہونی چاہیے۔ حضور اکرم ﷺ کو خوش کرنا اپنی اصل کے اعتبار سے اللہ تعالیٰ ہی کو خوش کرنا ہے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔