قرآن کریم بغیر تلاوت کے چومنا
سوال
ایک شخص پڑھنا لکھنا نہیں جانتا۔ بعد میں آ کر قرآن شریف کو چوم کر اور سر پر رکھ کر اور آنکھوں سے لگا کر چلا جاتا ہے اور کہتا ہے کہ پڑھنے والے پڑھ کر ثواب حاصل کرتے ہیں۔ میں ان پڑھ ہونے کی وجہ سے اس طرح ثواب حاصل کرتا ہوں۔ زید کہتا ہے کہ یہ فعل بدعت ہے۔ کیوں کہ یہ فعل رواج پکڑ جائے گا اور لوگ قرآن شریف پڑھنا چھوڑ دیں گے۔ لہذا قابل تحقیق بات یہ ہے کہ اگر قرآن پڑھنے والا بھی اس فعل کو کرے تو صحیح ہے یا نہیں؟ یا دونوں قسم کے لوگوں کے لئے صحیح ہے؟
جواب
بعض حضرات صحابہ علیہم الرضوان سے ثابت ہے کہ وہ قرآن کریم کی تلاوت فرماتے اور اس کو چومتے تھے۔ یہ احترام ہے مگر محض چومنے پر کفایت کرنا اور تلاوت سے اعراض کرنا غلط ہے۔ بڑی ناقدری ہے۔ زیادہ سے زیادہ تلاوت کرنے اور اس کے سمجھنے کی کوشش کرنا لازم ہے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔