دینی تحریر کی بے ادبی کے خیال سے یہ خدمت چھوڑنا
سوال
ایک صاحب کہتے ہیں کہ تحریری دینی خدمت جو کی جارہی ہیں وہ غلط ہے۔ مثلاً کوئی ماہنامہ یا اخبار اور ان میں قرآن پاک کی آیتیں اور احادیث لکھی ہوئی ہوتی ہیں۔ بہت سے ناواقف اور ان پڑھ لوگ ان کو پھاڑ کر کوڑا کرکٹ پر ڈال دیتے ہیں، تو اس کا گناہ اس کے لکھنے والے پر پڑتا ہے بے ادبی کرنے والوں پر کوئی گناہ نہیں۔ ایک اہل علم جن کو اپنے علم پر ناز ہے وہ بھی یہی فرماتے ہیں۔ صحیح کیا ہے؟
جواب
قرآن کریم، سیپارے، حدیث شریف، فقہ سب ہی کی طباعت واشاعت ہوتی ہے۔ ناواقف یا بے دین ادب و احترام کا معاملہ نہیں کرتے وہ خود ذمہ دار ہیں۔ حضرت نبی کریم ﷺ نے تبلیغی دعوت نامہ شاہ فارس کے پاس بھیجا۔ اس بدنصیب نے اس کو چاک کر دیا کوئی احترام نہیں کیا تو اس کا وبال خود اس پر پڑا نہ کہ بھیجنے والی ذات مقدس پر (معاذ اللہ)
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔