شرح جامی پڑھنے والے کا تفسیر بیان کرنا
سوال
کوئی طالب علم شرح جامی و کنز الدقائق وغیرہ پڑھتا ہے کیا ان کے لئے یہ جائز ہے کہ قرآن مجید تلاوت کرتے وقت قرآن کا ترجمہ کرنا خود سمجھتا ہے اور دوسروں کو سمجھاتا ہے۔ اگر یہ امر جائز ہو تو اس تقدیر پر حرام ہے یا مکروہ؟ مولوی ولی الله احمد ارکانی فرماتے ہیں یہ امر جائز ہے اور وہ فرماتے ہیں اگر قرآن مجید کے معنی سمجھتا ہو تو میرے خیال میں عدم جواز نہ ہوگا کیونکہ تفسیر پڑھنے کی غرض قرآن کے معنی سمجھنا ہے۔ جب اس شخص کو تفصیل خود سمجھنے کی توفیق ہے فلا حاجتہ الی التفسیر۔
جواب
لغوی معنی، صرفی صیغہ نحوی ترکیب، اپنی معلومات کے مطابق بیان کرنا جائز ہے۔ لیکن مراد خداوندی کو بیان کرنا حرام ہے۔ کیونکہ اس کا مدار بہت سے علوم پر ہے شرح جامی اور کنز پڑھنے والے عامۃ ان علوم سے واقف نہیں ہوتے۔ تفسیر الاتقان ص ۱۸۰ ج ۲ ر پر ان علوم کو شمار کیا ہے۔ اپنی رائے سے قرآن شریف کی تفسیر کرنے والے کے متعلق صحاح میں بہت سخت وعید آئی ہے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔