نسخ کی تفصیل اور حکمت
سوال
نسخ آیات قرآنی کے متعلق شریعت کیا کہتی ہے اور اکابرین کا اس کے بارے میں کیا خیال ہے۔ (ب) کتنی اور کونسی آیتیں منسوخ ہیں؟ (ج) کیا نسخ آیات سے حکمت باری تعالی میں نقص یا اس کی حکمت میں کسی قسم کا الزام عائد ہوتا ہے۔ (د) نسخ آیات قرآنی کی تعداد کے بارے میں علماء اسلام بتدریج کمی کی طرف مائل نظر آتے ہیں۔ چنانچہ حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی نے غالباً پانچ آیتیں منسوخ مانی ہیں آخر یہ کس خیال کے ماتحت ایسا ہو رہا ہے، اگر چندے یہی رہا تو وہ دن دور نہیں جب کہ نسخ کا مسئلہ ختم ہو جاوے۔ (ہ)
جواب
(ب) اس میں مختلف اقوال ہیں اس مختصر تحریر میں تفصیل کی گنجائش نہیں ”الفوز الکبیر“ وغیرہ کا مطالعہ کیجئے۔ (ج) نہیں (د) بالکل مسئلہ نسخ کو ختم کرنا نص قرآنی، اجماع امت کے خلاف ہے اس لئے وہ ہرگز قابل قبول نہیں۔ تقلیل نسخ کی مصلحت ظاہر ہے نفس نسخ کی مصلحت بتدریج و تمرین و عرف تعلیم احکام ہے کما صرح بہ علامہ رازی۔ فی المطالب العالیہ (ہ) علامہ نسفی نے منار میں یہ صورتیں ذکر کی ہیں۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔