الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

جس عورت کا دودھ بچہ کو پلایا جائے اس کے اثرات بھی آتے ہیں

سوال

ایک عورت اگر دوسری عورت کے بچہ کو دودھ پلاتی ہے تو کیا اس عورت کے عادات کا کچھ حصہ اس بچہ میں آئے گا؟ عادات چاہے اچھی ہوں یا بری ہوں اور کیا دودھ پلانیوالی اور جس کو دودھ پلایا ہے دونوں کا نکاح جائز ہوگا یا نہیں؟ یادونوں کا رشتہ بھائی بہن کا ہوتا ہے۔

جواب

دودھ پلانے کی مدت میں دودھ پلانے سے وہ بچہ اس عورت کا رضاعی بیٹا ہو جاتا ہے اور وہ عورت اس بچہ کی رضاعی ماں ہو جاتی ہے اور اس عورت کی جس قدر بھی اولاد ہو، وہ سب اس بچے کے بھائی بہن ہو جاتے ہیں، ان سے نکاح حرام ہو جاتا ہے۔ اچھی بری عادات کا بھی اثر ہوتا ہے، اسی لئے بیوقوف عورت کا دودھ پلانے سے منع کیا گیا ہے

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو