الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

رشتہ خراب ہونے پر بچو لئے کو برا بھلا کہنا

سوال

عرض یہ ہے کہ لڑکی کا رشتہ ہو یا لڑکے کا رشتہ ہوا اور وہ رشتہ دار غلط ہو جائیں لڑ کی کی طرف سے یالڑکے کی طرف سے بات خراب ہو جائے تو وہ بچولیوں کو برا کہتے ہیں اور اس کے بچوں کو بد دعا دیتے ہیں۔ لہذا دو چار رشتہ جو کئے وہ مناسب نہیں ہوئے، بگاڑ کی صورت آگئی۔ اب بچولیا کہتا ہے اللہ کی طرف سے جوڑی کا سنجوگ ہے۔ لڑکی کے والد اور لڑکے کے والد یہ کہتے ہیں کہ دیو بند سے فتویٰ منگا دو تو مجھ کو صبر آئے گا کہ خطا بچولئے کی ہے یا دوسرے کی ہے؟ لڑکے کے مقدر پھوٹے ہیں یا اللہ کی طرف سے جوڑی سنجوگ ہے؟

جواب

جوڑ اللہ تعالیٰ کی طرف سے طے شدہ ہوتا ہے دنیا میں اس کا ظہور ہوتا ہے۔ جو شخص نیک نیتی کے ساتھ خیر خواہی کے لئے درمیان میں واسطہ بن جاتا ہے اور کوشش کرتا ہے وہ مستحق اجر وثواب ہے۔ اگر بعد میں موافقت نہ ہو تو بچولئے کو برا کہنا غلط ہے۔ ہاں اگر بچولیا خود ہی بدخواہی کرے اور جان بوجھ کر غلط جگہ پھنسانے کے لئے رشتہ کر دے تو وہ گنہگار ہے۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو