باجے والی بارات میں شرکت
سوال
ایک عالم صاحب ہیں وہ کسی بھی بارات میں جہاں باجہ وغیرہ ہوتا ہے، شرکت نہیں کرتے ہیں، اور نہ اس تقریب میں جا کر کھانا کھاتے ہیں ان کا یہ فعل درست ہے یا نہیں؟ ان کے عزیز واقارب اور دوست واحباب ان پر معترض ہیں کہ بڑے بڑے علماء کو باجہ والی بارات میں کھانا کھاتے دیکھا ہے، لیکن وہ ان باتوں کی طرف دھیان بھی نہیں دیتے ہیں، اور شرکت سے صاف منع کر دیتے ہیں، ایسے شخص کو قوم اپنا پیشوا مان سکتی یا نہیں؟ اور ایسا شخص تعظیم کے قابل ہے یا نہیں؟
جواب
ان عالم صاحب کی روش بہت ٹھیک ہے، ایسا ہی چاہئے ایسا ہی عالم پیشوا ماننے کے لائق ہے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔