الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

خرافات ومنکرات کا نکاح پر اثر

سوال

جس شادی میں خرافات مثلا رت جگا کہ جس میں مستورات تمام شب گاتی بجاتی ہیں اور غیر محرموں کو اپنی آواز سناتی ہیں بارات کے موقعہ پر انگریزی باجہ اور دوسرے باجے نیز دیگر سامان رقص وسرود بھی ہوتا ہے اس موقعہ پر اہل شادی محض مرتکب گناہ ہیں یا نکاح ہی نہیں ہوتا جیسا کہ زید نے ایک وعظ میں حکایت بیان کی کہ ایک شخص نے غصہ میں اپنی زوجہ کو طلاق دیدی بعد میں علماء کرام سے طالب ہوا کہ اس کی زوجہ بدون دوسرے کے نکاح میں جائے اور بعد طلاق اس پر حلال ہو جائے مگر باریاب نہ ہو سکا۔

جواب

خرافات مذکورہ ممنوع اور نا جائز ہیں۔ ایسی شادی میں شرکت بھی درست نہیں، لیکن انعقاد نکاح پر اس سے اثر نہیں پڑتا اگر شریعت کے مطابق ایجاب وقبول ہو چکا ہے تو نکاح صحیح ہوگیا۔ وينعقد بايجاب وقبول تنویر۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو