الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

شادی میں قوالی

سوال

شادی کے موقع پر قوالی ایسی صورت میں کرانا جس کے اندر سارنگی وطبلہ وغیرہ بھی ہو تو جائز ہے یا نہیں؟ اگر نا جائز ہے تو کس درجہ میں یعنی مکروہ تنزیہی ہے یا تحریمی یا حرام قطعی؟ ایسے کرنے والوں پر جو وعید میں قرآن وحدیث میں وارد ہوئی ہیں تحریر فرما دیں۔ نیز یہ تحریر فرماویں کہ پنچایت کے جو افراد اور سربرآوردہ اشخاص جن کو اس قسم کے افعال کے روکنے کا حق حاصل ہے ان کو نہ روکنے کی خصوصیت سے کچھ زیادہ گناہ ہوگا؟

جواب

یہ قوالی حرام ہے۔ اگر پہلے سے اس کا علم ہو تو ایسی شادی میں شرکت نا جائز ہے جو لوگ اس کے روکنے پر قادر ہوں ان کے ذمہ روکنا واجب ہے خصوصا ذی اثر لوگ اگر نہیں روکیں گے تو زیادہ گنہگار ہوں گے۔ اگر پہلے سے اس قوالی کا علم نہ ہوا اور شریک ہونے پر مجلس میں جانے کے بعد قوالی کا علم ہو تو فوراً واپس آ جانا چاہئے اگر روکنے کی قدرت ہو تو روکنا لازم ہے۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو