الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

بارات میں ڈھول

سوال

ہمارے گاؤں میں شادی وغیرہ کی تقاریب پر ڈھول بجانا منع قرار دیا گیا ہے اور سب بزرگان گاؤں ڈھول بجانے کے خلاف ہیں۔ مگر ایک آدمی کے بھائی کی شادی تھی اور اس آدمی نے دعوت والے دن ڈھول نہیں بجایا اور جب بارات دلہن لانے کے لئے روانہ ہوئی تو صاحب خانہ نے ڈھول ناچ وغیرہ شروع کر دیا اور دلہن واپس لانے تک جاری رکھا ایسی صورت میں صاحب خانہ اور ان لوگوں کے لئے جو صاحب بارات ہوئے تحت شریعت کیا جرم لازم ہے؟ اگر کوئی مولوی اس بارات میں شامل ہو تو اس کے لئے کیا حکم ہے؟

جواب

جس شخص نے ڈھول اور ناچ وغیرہ کر دیا اس نے گناہ کیا برادری کے قانون کو بھی توڑا اور شریعت کے قانون کو بھی توڑا اور جس نے اس کا ساتھ دیا وہ بھی گناہ میں مددگار ہوا سب کو اپنی غلطی کا اقرار اور توبہ لازم ہے ورنہ ایسا شخص اس بات کا مستحق ہے کہ اس کو اپنی تقریبات میں شریک نہ کیا جائے نہ اس کی تقریبات میں شرکت کی جائے

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو