نکاح ومھر سے متعلق ۱۳ سوالات / زیادہ مہر پر جبراً دستخط لینا
سوال
(۱) نکاح سے پہلے ایک دن صبح مسجد کے اراکین نے ایک غیر جانبدار مکان کے کمرہ میں بکر کو بلا کر ایک دستاویز پر دستخط کرنے کو کہا۔ اس دستاویز کو جب کمیٹی کے صدر نے پڑھا تو اس میں اس کا فیصلہ تحریر تھا کہ وہ کمیٹی چند قرائن کی بناء پر یہ فیصلہ کرتی ہے کہ بکر سکہ رائج الوقت ایک ہزار روپیہ مہر سے ہندہ کا نکاح کر کے ایام حمل ہی میں اپنے پاس رکھے جب بکر نے دستاویز پر دستخط کرنے سے انکار کیا تو ان میں سے ایک نے کہا کہ انکار کا دوسرا انجام سنگباری سے ہلاکت ہے۔
جواب
(۱) کمیٹی کا اس طرح مجبور کرنا ظلم ہے اس کو ہرگز اس کا حق نہیں ہے۔ (کذا فی الدر المختار) پھر اپنی جانب سے مہر مقرر کر کے زائد رقم دستاویز میں لکھنا اس پر دستخط لینا یہ بھی ظلم ہے مہر کا تعلق عورت مرد کی رضا مندی پر ہے، جب دونوں اپنی خوشی سے نکاح کریں تو جس قدر چاہیں مہر مقرر کر سکتے ہیں، مہر کی کم از کم مقدار دس درہم جو کہ تقریبا ڈھائی تولہ چاندی ہوتی ہے اس سے کم معتبر نہیں…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔