الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

رخصتی سے قبل لڑکی کے باپ کو مطالبہ مہر کا حق

سوال

زید کا نکاح شرعاً ہندہ سے ہوا۔ بروقت نکاح نصف مہر معجل قرار پایا۔ ہندہ کی عمر اس وقت اٹھارہ سال تھی۔ نکاح کے ایک سال کے بعد پدر ہندہ نے رخصتی کا وعدہ کیا تھا، اس وقت ہندہ کی عمر بیس ۲۰ سال ہے، ابھی پدر ہندہ نے رخصتی نہیں کی ہے اور نہ شب زفاف کی نوبت آئی ہے پدر ہندہ ابھی دختر کی رخصتی نہیں کرتا ہے اور کل زرمہر کا طالب ہے لہذا شریعت محمدی کی رو سے جواب تحریر ہو کہ ایسی صورت میں کیا پدر ہندہ زر مہر کا مطالبہ قبل رخصتی کر سکتا ہے کہ نہیں؟ اگر کر سکتا ہے تو کس قدر حصص کا؟ برائے مہربانی جلد جواب عنایت فرمائیں۔

جواب

صورت مسئولہ میں پدر ہندہ کو کل مہر کے مطالبہ کا حق نہیں، ہندہ کی طرف سے وکیل ہو کر برضامندی ہندہ کے صرف نصف مہر کے مطالبہ کا حق حاصل ہے۔ زید کو چاہئے کہ نصف مہر ادا کردے۔ اگر زید کو یہ خیال ہو کہ پدر ہندہ مہر وصول کرنے کے بعد رخصت نہیں کریگا تو زید کو چاہئے کہ حاکم وقت یا با عزت اہل محلہ کے ذریعہ سے پدرِ ہندہ پر زور ڈالے کہ وہ ہندہ کو رخصت کے لئے اولاً تیار کرے اس کے بعد مقدار…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو