مطالبه مهر
سوال
مسماة زینب کا نکاح بعوض نوسو روپیہ کے ایک داروغہ صاحب سے ہو گیا تھا، داروغہ صاحب نے ایک مرتبہ مسماۃ زینب سے حالت غصہ میں یہ کہا کہ تو گھر سے نکل جا تجھ کو طلاق، اسکے بعد دوبارہ عقد کیا گیا تھا اب داروغہ صاحب کے انتقال کے بعد ان کی جائداد وغیرہ پر انکی پہلی بیوی کی اولاد قابض ہے، مسماۃ زینب نے اپنے مہر اور ترکہ کا دعویٰ کیا ہے، لیکن مخالفوں نے یہ افواہ اڑا رکھی ہے کہ داروغہ صاحب نے طلاق دے دی تھی، اب یہ عرض ہیکہ صورت موجودہ میں مسماہ زینب کو اپنے ترکہ اور مہر وصول کرنے کا حق داروغہ صاحب کی جائداد سے ہے یا نہیں اور…
جواب
اگر نکاح ثانی ثابت ہو جائے اور داروغہ صاحب کے انتقال تک دوبارہ شرعی جدائی ثابت ہو کر عدت نہ گزر چکی ہو تو مسماۃ مذکورہ اپنے حصہ میراث کی مستحق ہوگی، اور نکاح ثانی کی وجہ سے مہر ثانی کی بھی مستحق ہو گی اگر نکاح ثانی کا ثبوت نہ ہو سکا یا بحالت صحت داروغہ صاحب جدائی کا ثبوت ہو کر عدت ختم ہو چکی ہو تو حصہ میراث کی مستحق نہ ہوگی اور عقد اول کی وجہ سے مہر مذکور کا بہر حال مطالبہ کر…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔