الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

رخصتی سے پہلے مطالبہ مہر

سوال

زید نے بایں شرائط اپنی دختر کا نکاح بکر سے کر دیا کہ پانصد کازیور پارچہ اور یک ہزار پانصد میں دو دوکانیں مہر میں تحریر کر کے رجسٹری کرادے۔ نکاح پڑھا دیا، اب دختر کو رخصت نہیں کرتا اور چاہتا ہے کہ دوکانوں کا کرایہ نامہ میری دختر کے نام کر دو۔ جب رخصت کروں گا۔ نکاح کو پندرہ ماہ ہوئے۔ کیا زید کی دختر بلا اس کے کہ وہ اپنے والدین کے یہاں سے آتی اور حق زوجیت ادا کرتی۔ کسی رقم زر دو ہزار بذریعہ نالش شرعاً حاصل کرنے کی حقدار ہو سکتی ہے۔ زید کی دختر چار پانچ سال تک رخصت ہو کر خاوند کے یہاں نہیں آئی۔

جواب

اگر مہر معجل پر نکاح ہوا ہے تو شرعاً عورت کو حق ہے کہ اپنے نفس کو شوہر کے حوالہ نہ کرے۔ جب تک مہر وصول نہ کرے۔ اگر کل مہر معجل ہے تو عورت کو کل مہر کے مطالبہ کا حق حاصل ہے اگر کچھ معجل ہے کچھ مؤجل تو معجل کے مطالبہ کا حق حاصل ہے۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو