الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

مہر میں جائیداد اور قبرستان بیوی کو دینا

سوال

زید نے شادی کی، بچے ہوئے اور تقریباً ۱۲۰ برس بعد زید نے اپنے باپ کی جائیداد اپنی بیوی کے مہر میں ہبہ کر دی حالانکہ مہر بہت کم ہے اور جائیداد بہت بڑی ہے۔ اس جائیداد میں ایک بڑا قبرستان بھی شامل ہے۔ تو مہر کی ادائیگی کے لئے کوئی وقت مقرر ہے یا نہیں۔ زید کی عمراب نوے ۹۰ ر برس کی ہے۔ زید کے انتقال کے بعد قبرستان کاشت ہونے اور باغ کٹ جانے کا قوی خطرہ ہے۔ اس صورت میں مہر ادا ہو گیا یا نہیں؟ اور اس ہبہ کرنے سے مہر ادا ہوگا یا نہیں؟ فقط

جواب

اگر زید کے والد زندہ ہیں تو اُن کی جائیداد میں کوئی تصرف بغیر ان کی اجازت کے زید کے لئے جائز نہیں اگر والد کا انتقال ہو کر تنہا زید وارث ومالک ہو چکا ہے تو وہ جائیداد خود زید کی ہے اس کے والد کی نہیں رہی زید کو اس میں تصرف کا حق حاصل ہے۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو