ادائے مہر سے قبل وطی کا حکم
سوال
(۱) ایک منکوحہ عورت اپنے شوہر سے مہر معجل طلب کرتی ہے لیکن شوہر ادا نہیں کرتا تو کیا اب عورت کو اختیار شرعی ہے کہ شوہر کو وطی نہ کرنے دے۔ (۲) لیکن شوہر زبردستی مار کر باندھ کر جوڑ کر وطی کرتا ہے تو کیا یہ جماع جائز ہے یا نا جائز؟ (۳) اگر زبردستی وطی جائز ہے تو عورت کا مندرجہ بالاحق شرعی بیکار وفضول ہے۔ عورت کا انکار وطی بھی جائز اور شوہر کا زبردستی وطی یعنی جماع کرنا بھی جائز دونوں ایک دوسرے کی ضد ہیں۔ (۴) اگر شوہر کا زبردستی وطی کرنا جائز بھی ہے اور ظلم بھی ہے تو یہ بھی ضد ہے یعنی جائز بھی اور ظلم بھی۔ (۵)
جواب
(۲) یہ جماع تو زنا نہیں لیکن زبردستی کرنا نا حق ہے۔ (۳) عورت کو حق ہے کہ وطی نہ کرنے دے اور مرد کو یہ حق نہیں کہ زبردستی کرے تا ہم اگر زبر دستی کرے گا تو ناحق زبردستی کی وجہ سے گنہگار ہوگا۔ لیکن اس جماع کو زنا یا حرام نہیں کہا جاوے گا جس کی وجہ سے حد زنا کا مستحق ٹھہرے۔ (۴) ایسا کرنا ظلم ہے مگر زنا نہیں۔ (۵)
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔