موروثی زمین کو مہر قرار دینا
سوال
زید نے ہندہ کو نکاح اور اس کے مہر میں ایک زمین جواس کے ہاتھ میں ہے اور دراصل یہ زمین زمیندار کی ہے اور وہ شخص سالانہ زمین دار کو خزانہ دیتا ہے اور اس کی پیداوار کا مالک زید رہتا ہے اور اس جگہ یہ بھی رواج ہے کہ اس قسم زمین کو رعا یا لوگ ایک دوسرے کے ہاتھ راضی میں فروخت کرواتے ہیں اور خریدار زمیندار کو بعد میں کچھ روپیہ نذرانہ دیتا ہے زمیندار راضی ہو جاتا ہے ان تمام باتوں کو پیش نظر رکھتے ہوئے کیا زمین اس کی مہر میں ہندہ کے سپرد کرنا واجب ہے یا دیگر مال سے اگر دوسرے مال سے ادا کرے تو کس قدر ادا کرے؟
جواب
نفس زمین کو مہر قراردینا درست ہے اگر زمیندار وہ زمین زید کو دیدے خواہ قیمہ خواہ ہبہ تب تو اس زمین کا دینا زید کے ذمہ واجب ہے ورنہ اس زمین کی قیمت واجب ہوگی۔ واذا تزوجها على هذا العبد وهوملك الغير او على هذا الداروهى ملك الغير فالنكاح جائز والتسمية صحيحة فبعد ذلك ينظران اجاز صاحب الدار او صاحب العبد ذلك فلها عين المسمى وان لم يجز المسمى لا يبطل النكاح ولا التسمية حتى لا يجب مهر…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔