بیوی نے مہر معاف کر دیا بیٹے کو مطالبہ کا حق نہیں
سوال
ہندہ نے اپنی حیات میں اپنا مہر اپنے شوہر زید کے حق میں معاف کر دیا تھا جس کو چالیس ۴۰ سال کا عرصہ ہوتا ہے۔ اب ہندہ کا لڑکا بکر جس کی عمر اس وقت ۵۷ سال ہے اپنی ماں کے مہر کا طالب ہے، کیا بکر کا یہ مطالبہ صحیح ہو سکتا ہے؟
جواب
اگر ہندہ نے اپنی حیات وصحت میں (مرض الموت سے پہلے) مہر معاف کر دیا تھا تو شوہر کے ذمہ سے ساقط ہو گیا تھا۔ اب لڑکے بکر کو اپنے والد سے مطالبہ کا حق نہیں۔ وصح حطها لكله اوبعضه اھ درمختار. الحط الاسقاط اھ رد المحتار اھ قبل اولا ويرتد بالرد كما في البحر اھ درمختار. والساقط لا يعوداه اشباه
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔