جعلی رسید سے مہر کی معافی
سوال
(۱) زید نے ہندہ سے دو سادہ کاغذ پر بجلی کے سیکھے کی رسید کے بہانے دستخط کرائے اور اس کے بعد زید نے حسب منشاء مہروں کی معافی کی تحریر کر لی۔ کیا ایسی صورت میں ہندہ مہر لینے کی حقدار ہے کہ نہیں؟ (۲) ہندہ کے اپنے والدین کے پاس قیام کرنے کے دوران زید نے اس کے والد کے پاس آ کر سخت سست کہا اور کہا اس کا نتیجہ اچھا نہ ہوگا اور تقریباً دو ماہ بعد بوقت مغرب جب ہندہ کے والد نماز کے لئے گئے ہوئے تھے زید اور اس کا بھائی بکر چاقو لئے ہوئے تھے ہندہ کے گھر گھس گئے۔ ہندہ اور اس کی بہن نماز میں تھی۔
جواب
(۱) اس فریب کاری سے مہر معاف نہیں ہوا۔ (۲) اگر ہندہ نا قابلِ برداشت مظالم سے مجبور ہو کر اپنے والد کے مکان میں آئی یا پھر شوہر نے بجائے ظلم سے باز آنے اور شریفانہ طور پر آباد کرنے کے یہ طریقہ اختیار کیا تو یہ بھی ظلم بالائے ظلم ہے۔ (۴-۳) ہندہ کو حق ہے کہ شوہر سے مطالبہ کرے کہ آپ مجھے شریفانہ طور پر آباد کریں اور ظلم اور بے جا تشدد سے باز آجائیں ورنہ طلاق دے دیں۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔