مہر کی معافی پھر اس سے انکار
سوال
(۱) (الف) عورت اگر بلاکسی تحریک کے اپنی خوشی سے مہر معاف کر دے پھر دو تین ماہ کے بعد نا خوش ہو کر پھر مہر کی معافی سے انکار کر دے تو ایسی صورت میں شرعاً مہر معاف ہو گیا یا نہیں؟ (ب) اگر عورت نے کسی تنہائی کے موقع پر اپنی خوشی سے بلاکسی تحریک وتقاضی کے ان الفاظ کے ساتھ مہر معاف کر دیا ہے کہ پہلی شب کو تو میں مہر سے محض نا واقف تھی۔ اس لئے نا سمجھی سے تمہارے کہنے پر میں نے اپنا مہر معاف کر دیا تھا۔
جواب
(۱) الف: دیانۃً تو معاف ہو گیا۔ لیکن قضاء معاف ہونے کے لئے ثبوت شرعی ضروری ہے۔ (ب) اس کا جواب بھی یہی ہے (ج) اس سے مہر معاف نہیں ہوتا۔ (۲) الف: عورت کو چاہئے کہ رقم مقرر کر دے اگر وہ مقرر نہ کرے بلکہ مقدمہ کرے تو پھر وہ حاکم سے مقرر کرا لے۔ (ب)
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔