الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

مغالاة مهر

سوال

(۱) رسالہ”النور ج ۵۳/۱ ص ۲۵ ملفوظ ۲۹۴ میں حسب ذیل عبارت ہے۔ جواب میں فرمایا کہ احادیث میں جو مغالات مہر کی ممانعت ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ قوم کے خلاف ایک شخص قلیل مہر مقرر کرے ورنہ فقہاء اس راز کو سمجھتے۔ دیکھئے فقہاء نے لکھا ہے کہ اگر غیر اب وجد کسی لڑکی کا نکاح مہر مثل سے کم پر کر دے تو نکاح ہی منقعد نہ ہوگا اس سے معلوم ہوا کہ اگر ساری قوم مغالاة کرتی ہو تو اپنی اولاد کے لئے مہر مثل کی مراعاۃ واجب ہے ممانعت مغالات مہر کا مطلب یہ ہے کہ ساری قوم مہر میں مغالاة کو رفع کرے۔ انہی ملفوظ۔

جواب

مہر کے متعلق شریعت کی طرف سے تعیین ہے کہ کم از کم دس درہم ہونا چاہئے اس سے کم جائز نہیں اس سے زائد عورت اور اولیاء کا حق ہے عورت اگر بلا رضا مندی اولیاء مہر مثل سے کم پر نکاح کرے گی تو اولیاء کو قاضی کے ذریعہ سے فسخ کا حق ہے اگر عورت بالغہ واولیاء مہر مثل سے کم پر رضامند ہو جاویں تو صحیح ہے صورت مسئولہ میں اگر ہمشیرہ بوقت نکاح بالغہ تھیں اور مہر مثل سے کم پر رضا مند تھیں اور…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو