سکہ رائج الوقت مہر میں چاندی کے روپے وصول کرنا اور نفقہ عدت
سوال
حافظ محمد عرفان کے نکاح کے وقت قاضی نے سکہ رائج الوقت کی قید کے ساتھ ۳۲ روپے مہر متعین کیا تھا۔ اب حافظ صاحب نے آٹھ سال کی مدت طویلہ اور خلوت صحیحہ کے بعد اپنی بیوی کو طلاق دیدی ہے طلاق کے بعد وہ عورت ایک سال تک اپنے والد کے گھر پر رہی ہے۔ اس کے بعد پانچ ماہ کے لئے اپنے شوہر حافظ صاحب کے گھر آگئی۔ ان پانچ ماہ میں بلاکسی تعلق کے انھوں نے نان ونفقہ برداشت کیا۔ اب اس کے گھر والے اس مطالبہ پر بضد ہیں کہ ہم دوسال کا نان ونفقہ لیں گے اور اس کے ساتھ ساڑھے بتیس ۳۲ روپئے چاندی کے لیں گے۔
جواب
اب سے سات آٹھ سال قبل چاندی کا روپیہ رائج نہیں تھا۔ لہذا ۳۲ روپئے چاندی کے وصول کرنے کا حق نہیں۔ طلاق کے بعد نفقہ عدت شوہر پر واجب ہوتا ہے مطلقہ کی عدت تین حیض ہے دو سال کا نفقہ طلب کرنا غلط اور ناحق ہے۔ عدت ختم ہونے کے بعد وہ اجنبیہ ہوگئی ہے، اب اس کے ساتھ رہنے کا حق نہیں رہا اور کوئی نفقہ بھی واجب نہیں رہا۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔