کیا لڑ کی اپنا مہر خود مقرر کرے؟
سوال
نکاح کے وقت لڑکی اپنا مہر خود مقرر کر کے بتلائے۔ کیا اس بارے میں قرآن کریم یا حدیث شریف میں کوئی دلیل ہے؟ اگر اس بارے میں کوئی حدیث ہو تو ضرور لکھیں۔ یہاں پر اہل حدیث کہتے ہیں کہ لڑکی اپنا مہر خود مقرر کرے گی۔ میری نظر سے ایسی کوئی حدیث نہیں گذری۔ اگر یہ خالص فقہ کا مسئلہ ہے تو جواب سے مطلع فرمائیں۔
جواب
مہر کی کم از کم مقدار شریعت نے مقرر کر دی ہے۔ لا مهر اقل من عشرة دراهم بروایت دار قطنی اور بیہقی میں ہے حافظ ابن حجر عسقلانی (شارح بخاری) نے اس کو حسن لکھا ہے مگر زیادہ کی کوئی حد مقرر نہیں کی۔ ہاں اتنا زیادہ مقرر کرنے سے منع کیا گیا ہے۔ جس کی ادائیگی قابو سے باہر ہو۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔