مہر میں معجل ومؤجل کی تصریح نہیں مہر مثل میں مقدم کا اعتبار ہو گا یا موخر کا؟
سوال
ایک شخص زید ایک مسماۃ خیرن کے ساتھ ۱۹۲۵ء سے ۱۹۶۴ء تک زندگی گذارتا رہا۔ اس عرصہ میں مسماۃ مذکور سے نو ۹ رلڑکے اور چار لڑکیاں پیدا ہوئیں، ان میں سے سات لڑکے اور تین لڑکیاں اور خود مسماۃ مذکور بقید حیات ہیں ۱۹۲۵ء میں زید کے والد نے ان واقعات کے علم کے بعد اعلان کر دیا تھا کہ اگر زید مسماۃ خیرن سے نکاح کرے گا تو وہ اپنے کو عاق سمجھے ورنہ زید کو خاندان سے کوئی حصہ نہیں ملے گا ۱۹۵۶ء میں زید کے پیروں کی ہڈیاں ٹوٹ جانے سے دونوں ٹانگیں (کولھے سے نیچے تک) قطعی بیکار ہوگئیں۔
جواب
اگر نکاح کا ایجاب وقبول شریعت کے مطابق ہو جائے اور اس میں مہر کے معجل یا مؤجل کی کوئی صراحت نہ ہو تو اس سے نکاح پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔ نکاح صحیح ہو جاتا ہے۔ (۲) جو اولاد ایجاب وقبول سے پہلے پیدا ہو وہ ثابت النسب نہیں۔ وہ صرف ماں سے وراثت پاسکتی ہے، باپ سے وراثت نہیں پائے گی۔ کیونکہ شرعاً وہ باپ نہیں، نہ وہ اولاد اس کی شرعی اولاد ہے۔ (۳)
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔