مہر حیثیت سے زیادہ ادا نہ ہو سکا تو کیا ہوگا
سوال
(۱) بعض لوگ فخریہ طور پر اپنے قولی رواج کے موافق اور بعض لڑکی کے طلاق کے اندیشہ سے لڑکی کا مہر شوہر کی حیثیت سے بہت زیادہ بندھواتے ہیں حالانکہ شوہر کی حیثیت پچاس روپیہ بھی ادا کرنے کی نہیں ہوتی اور اس کو پانچ صد یا پانچ ہزار کا زور دیا جاتا ہے اور شوہر کی طلب میں مطلوبہ مہر بندھوانے پر مجبور ہو جانا پڑتا ہے اور اس نا قابل برداشت بار کو ذمہ رکھ لیتا ہے چونکہ یہ بار طاقت سے بالکل باہر ہو جاتا ہے کسی بھی طرح اس کی ادائیگی ممکن نہیں ہوتی لہذا بغیر ادا کئے بھی مر جاتا ہے اور اس دین مہر کو اپنے ذمہ ہی لے جاتا ہے اگر…
جواب
(۱) یہ تو ظاہر بات ہے کہ فخر کے طور پر زیادہ مہر مقرر کرنا شرعاً پسندیدہ نہیں زیادہ مہر مقرر کرنے کی حدیث شریف میں مذمت آئی ہے اگر کسی نے بمجبوری زیادہ مہر پر نکاح کیا (کم مہر پر نہیں ہوتا تھا) اور نیت بھی ادا کرنے کی تھی اور عمر بھر فکر میں رہا اور کوشش کرتا رہا لیکن ابھی ادا نہیں ہو سکا تو اللہ تعالیٰ کی ذات سے توقع ہے کہ وہ اپنے خزانہ سے بیوی کو عطا کر دیں گے اور شوہر کی…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔