ايضاً
سوال
مہر کے لئے شرعی قانون کیا ہے کیونکہ آج کل کثرت سے یہ ہو رہا ہے کہ خاوند میں وسعت نہیں ہوتی مگر لڑکی کے ورثاء اصرار سے زیادہ ہی مہر مقرر کراتے ہیں اور بعضوں کا خیال یہ بھی ہوتا ہے کہ اگر مہر زیادہ از وسعت ہو پڑا ہو لینا دینا تو کچھ بھی نہیں ایسی صورت میں کیا حکم ہے؟
جواب
مہر کی ادنی مقدار شریعت نے دس درہم مقرر کی ہے۔ زیادہ کی تحدید کچھ نہیں۔ طرفین جس قدر چاہیں اور وسعت سمجھیں مقرر کر سکتے ہیں حیثیت سے زیادہ مقرر کرنا نام آوری، شہرت کے لئے شرعاً پسندیدہ نہیں۔ نہایت مذموم اور برا ہے احادیث میں اس کی ممانعت آئی ہے اور جب کہ دینے یا معاف کرانے کی نیت نہ ہو تو بہت ہی برا ہے بعض احادیث میں ایسے شخص کیلئے سخت کلمات فرمائے گئے ہیں جس طرح کہ دوسرا کسی…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔