الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

لڑکے پر زور ڈال کر اس کی حیثیت سے زیادہ مہر مقرر کرنا

سوال

(۱) ایک شادی شدہ لڑکا جس کی عمر پینتیس ۳۵ سال ہے اور اس کا مہر پینتیس روپے چار آنے ہے کیوں کہ ان کی برادری میں اتنا ہی مہر باندھنے کا رواج ہے اور یہ لڑکا سرکاری ملازم ہے، ایک دوسرے شخص نے بہلا پھسلا کر چوری سے اپنی لڑکی سے ڈیڑھ ہزار روپیہ مہر پر نکاح پڑھا دیا اور بستی والوں کو معلوم نہیں ہوا۔ یہ چوری سے نکاح اور ڈیڑھ ہزار روپے مہر جو کہ دباؤ ڈال کر باندھا گیا ہے۔ درست ہے یا نہیں؟ (۲)

جواب

(۱) ایجاب وقبول جب دو گواہوں کے سامنے شریعت کے مطابق ہو جائے تو نکاح منعقد ہو جاتا ہے اور مہر کی اتنی مقدار بھی منظور کرنے سے مہر لازم ہو جاتا ہے اگر چہ برادری میں کم مہر کا رواج ہے۔ پینتیس ۳۵ سالہ شادی شدہ سرکاری ملازم لڑکا ایسا نہیں ہوتا کہ جس کو نا بالغ یا کم عمر لڑکا سمجھ کر بہلا پھسلا کر غلط کام کرالیا جائے اور اس کو معذور قرار دیا جائے۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو