مهر شرع محمدی
سوال
شرع محمدی مہر ۱۸۔ باندھے جاتے ہیں یہ صحیح ہے یا غلط اگر غلط ہو تو اس مقدار میں کتنے ٹھیک ہیں، اور اس کے علاوہ کیا کیا مقدار ٹھیک ہے۔؟
جواب
شرع محمدی مہر سے مراد عام طور پر مہر فاطمی ہوتا ہے اس کی مقدار بہشتی زیور ص ۲۴ ج ۳ کے حاشیہ پر ایک سو چھپن روپئے آٹھ آنہ کے قریب لکھی ہے اور دوسری جگہ کچھ اور مقدار لکھی ہے لہٰذا بہتر یہ ہے کہ بوقت نکاح اس مہر کی تعیین کر لی جاوے روپوں میں۔ شرع محمدی میں مہر کی مقدار کم از کم دس درہم ہیں۔ یعنی تقریباً تین ۱۳۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔