مہر شرعی اور مہر فاطمی
سوال
زید اپنی بیوی کو طلاق دینا چاہتا ہے وہ زمیندار بھی ہے اس کی بیوی غریب گھر کی لڑکی ہے۔ لڑکی دوسرا نکاح کرنا نہیں چاہتی ہے اور مہر شرع محمدی یعنی ساڑھے بتیس روپیہ ہے۔ شرع محمدی مہر کی تعداد زیادہ سے زیادہ کتنی ہے؟ بتلایا جائے۔ عین نوازش ہوگی۔
جواب
شرع محمدی مہر کی مقدار ساڑھے بتیس ۳۲ ر روپیہ اگر وہاں کا عرف ہے تو صحیح ہے یعنی جب لوگ شرع محمدی مہر بولتے ہیں تو اس سے ساڑھے بتیس روپیہ ہی مراد لیتے ہیں، تو بس اتنی ہی تعداد لازم ہوگی اس سے زیادہ کے مطالبہ کا حق نہیں۔ اگر یہ عرف نہ ہو تو مہر فاطمی مراد ہوگا۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔