مہر فاطمی کی ترجیح مہر مثل پر
سوال
زید اپنی لڑکی کا نکاح ایک فارغ التحصیل لڑکے سے مہر فاطمی پر کرنا چاہتا ہے جب کہ یہاں پر مہر مثل کا دستور ۵ ہزار کا ہے جب کہ سب راضی بھی ہیں لڑکی اور لڑکا بھی راضی ہے تو مہر فاطمی پر نکاح درست ہو گا یا نہیں؟
جواب
جب بالغہ لڑکی اور اس کے اولیاء رضا مند ہیں تو مہر مثل کی پابندی لازم نہیں، خاص کر جب کہ لڑکا عالم دین بھی ہے تو مہر فاطمی کی سنت کا احیاء باعث اجر بھی ہے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔