الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

کفاءت ومساوات شرافت نسبی

سوال

ہندوستان میں ذات پات کا وجود عرب کے شعوب وقبائل (جن کا ذکر قرآن پاک میں ہے) سے مماثلت یا مطابقت رکھتا ہے، کیا ہندوستان میں ذات پات کا رواج مساوات اسلامی کی روح کی ضد ہے؟ اگر ذات پات کا امتیاز اشعار اسلامی کے خلاف ہے تو علماء نے اس سلسلہ میں کیا کیا؟ کون سی کتب اس لعنت کے بطلان کیلیے لکھی گئی، عام طور پر کہا جاتا ہے، کہ نام کے ساتھ صدیقی، عثمانی، انصاری، سید، مرزا، خان، شیخ وغیرہ کا اضافہ تعارف کیلئے ہے، اس سے افتخار مقصود نہیں،سوال یہ ہے کہ تعارف کا یہ ذریعہ زمانہ رسالت ﷺ میں اور آج عرب ممالک میں کیوں رائج نہیں…

جواب

جس مساوات (کفائت کا ذکر کتب فقہ میں ہے وہ مساوات اسلامی کی روح کی ضد نہیں اور جو ہندوستان میں نو مسلموں نے ترکہ آباء کی حیثیت سے باقی رکھی اور دوسرے نا واقف مسلمانوں میں صحبت کے اثر سے آگئی وہ ضد ہے، علماء اسلام نے ہمیشہ اس کو رد کیا، ان اکرمکم عند الله و اتقاکم کی تفسیر میں اس کا ذکر اردو کی تفاسیر میں بھی موجود ہے، غایب النسب، میں اس پر کافی بحث ہے، القول الاسلم، اسی مقصد کے…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو