نکاح کے بعد کفاءت زائل ہو جانے میں خیار
سوال
ایک عالم فاضل اجل کی دختر صغیرہ کا نکاح ہوا ایک صغیر السن لڑکے سے جو اچھے حال وذات کا تھا اور جس میں امید تھی کہ یہ علم پڑھے گا اور صالح ہوگا اور فسق وفجور سے مجتنب رہے گا مگر سنِ شعور سے لے کر اب تک چوبیس، پچیس سال کی عمر کو پہونچ چکا ہے، فسق وفجور میں رہا۔ ترک صلوة عمداً، حقہ نوشی، دنگل وتماشا بینی وغیرہ میں منہمک ہے۔ کیا شرعاً ایسے نکاح کے متعلق تنسیخ وفسخ کی صورت ہو سکتی ہے یا نہیں؟
جواب
بوقت نکاح لڑکا صغير السن تھا، عیوب مذکورہ اس وقت تو موجود نہیں تھے بلکہ بعد میں پیدا ہوئے ہیں۔ پس ایسے عیوب مذکورہ کی بنا پر شوہر فاسق وفاجر تو ہو گیا جس سے کفاءت زائل ہو گئی مگر اس کفاءت کے زائل ہونے سے فسخ نکاح کا اختیار نہیں، کیونکہ کفاءت بوقت نکاح معتبر ہے بعد میں زائل ہونے سے کچھ نہیں ہوتا۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔