لڑکی اور ولی کی رضا مندی سے غیر کفو میں نکاح ہوا تو برادری کو ترک تعلق کا حق نہیں
سوال
زید ایک دیندار اور مالدار شخص ہے اس نے اپنی لڑکی کا نکاح اپنی اور لڑکی کی رضامندی سے غیر کفو میں کر دیا۔ لڑکا جس سے نکاح کیا وہ بھی دیندار با حیثیت ہے تو کیا غیر کفو میں نکاح کر دینے سے زید کی برادری کو یہ حق ہے کہ وہ زید سے ترک تعلقات کرے؟
جواب
کفاءت لڑکی اور اس کے ولی کا حق ہے جب دونوں اپنے اس حق کو ختم کرنے پر رضامند ہوں تو برادری کو ترک تعلقات کرنے کا حق نہیں بلکہ یہ ترک تعلق کی سزا غلط ہے، ظلم ہے مسئلہ کی تفصیل کتب فقہ بحر، عالمگیری، خانیہ، ردالمحتار وغیرہ میں ہے۔ لڑکے میں بعض دفعہ ایسا جو ہر ہوتا ہے کہ اس کی وجہ سے حق کفاءت کو ختم کر دینا لڑکی کے حق میں انفع ہوتا ہے، اس کے نظائر سلف صالحین میں موجود ہیں۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔