الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

بالغہ پر ولایت

سوال

زید کے ایک لڑکی ہے جس کا رشتہ زید نے اپنی زندگی میں خالد سے کر دیا ہے زید کا ایک چھوٹا بھائی بکر ہے زید بکر سے سخت ناراض تھا زید کا انتقال ہو گیا اب بکر چاہتا ہے کہ زید کی لڑکی کا نکاح میرے لڑکے سے ہو اور زید کی بیوی اور لڑکی اس سے رضا مند نہیں۔ کیونکہ وہ لڑکا نالائق اور بد چلن ہے زید کی بیوی اور لڑ کی خالد سے نکاح کرنے میں رضامند ہیں کیونکہ زید اپنی زندگی میں خالد سے رشتہ کر چکا تھا اب زید کی لڑکی بالغ ہے وہ اپنی مرضی کے موافق بغیر اجازت اپنے چچا صاحب کے خالد سے نکاح کر سکتی ہے یا نہیں؟

جواب

جب لڑکی بالغہ ہے تو اس کا چچا بلا اس کی رضا مندی کے ہرگز اس کا نکاح نہیں کر سکتا جس جگہ لڑکی کے باپ نے لڑکی کا رشتہ اپنی زندگی میں کیا تھا اگر وہاں لڑکی کی بغیر رضا مندی اپنی چچا کے اپنا نکاح کرلے گی تو شرعاً یہ نکاح معتبر ہوگا اور چچا کو شرعاً اعتراض کا حق حاصل نہ ہوگا۔ بشرطیکہ وہ نکاح کفو یعنی اپنی برادری میں ہوا اور مہر مثل سے کم پر نہ ہو۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو