بالغہ کا نکاح بغیر ولی کے اور نا بالغ کے ولی کی طلاق
سوال
مسماۃ رمضانوں بنت نتہو بیوہ ہو گی تھی۔ عدت ختم ہونے پر اس کے والد نے اس کے دیور مسمی جماعت علی سے نکاح کر دیا اور پھر اس لڑکی سے والد نے کہدیا کہ تمہارا نکاح مسمی جماعت علی سے کر دیا جو کہ نابالغ تھا۔ یعنی اس وقت جماعت علی کی عمر دس برس کی تھی اور لڑکی بالغ تھی۔ تو لڑکی نے اس بات پر اظہار نا راضگی کیا اور انکار کیا۔ اب تین سال کے بعد لڑکی کے والد نے جماعت علی کے والد سے کہدیا کہ اپنی بہو کو لیجا تو تین طلاق دیدی ہے اور پہلے بھی کہدیا تھا کہ اپنی لڑکی کو جہاں چاہو نکاح کر دو۔
جواب
باپ کو جبراً بغیر اس کی مرضی کے نکاح کرنے کا حق نہیں۔ پس اگر نکاح کی خبر پا کر لڑکی نے اس نکاح کو رد کر دیا تھا تو رد ہو گیا تھا۔ اب طلاق کی ضرورت نہیں دوسری جگہ نکاح کرنا درست ہے اگر اس نکاح کو رد نہیں کیا تھا بلکہ اجازت دیدی تھی تو وہ صحیح ہو گیا تھا اب جب تک لڑکا بالغ ہو کر طلاق نہ دے دوسری جگہ نکاح درست نہیں لڑکے کے باپ کو شرعاً لڑکے کی بیوی کو طلاق دینے کا حق حاصل نہیں یہ…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔