بالغہ کا نکاح بغیر ولی کے اور مبسوط کی عبارت
سوال
اگر کوئی عورت باکرہ عاقلہ بالغہ بغیر رضاء ولی کے خفیہ نکاح کر لیتی ہے جس سے والدین اولیاء کی عزت پر بہت بدنما دھبہ لگ گیا ہے، کیونکہ وہ شریف خاندان میں سے نہیں۔ اور اس نکاح کو ہرگز جائز نہیں کہتے۔ تو کیا اس صورت میں حسب مضمون عبارت مبسوط سرخسی بغیر رضاء ولی یہ نکاح جائز قرار دیا جاسکتا ہے۔ ومن العلماء من يقول اذا كانت غنية شريفة لم يجز تزوجها نفسها من غير رضاء الولى وان كانت فقيرة خسيسة يجوزلها ان تزوج نفسها من غير رضاء الولى. مبسوط ص ۱۰ ج ۵ باب النكاح.
جواب
اگر عاقلہ بالغہ نے اپنا نکاح کفو میں مہر مثل پر کیا ہے تو وہ شرعاً نافذ اور درست ہے، امام ابو حنیفہ کا بھی یہی مذہب ہے۔ امام ابو یوسف کا قول ظاہر الروایۃ میں یہی ہے اور انھوں نے قول اول سے رجوع کیا ہے جو یہ ہے کہ بغیر ولی کے نکاح منعقد نہیں ہوتا جب کہ اس کا کوئی ولی ہو۔ تیسرا قول یہ ہے کہ اگر کفو میں کیا ہے تو جائز ہے ورنہ نہیں۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔