نکاح بغیر ولی کے
سوال
مسماۃ ہندہ بالغہ باکرہ نے بغیر اجازت والد خود نکاح کر لیا کیونکہ اس کا والد دوسری جگہ نکاح کرنا چاہتا تھا ہندہ وہاں رضا مند نہیں، دریافت طلب یہ امر ہے کہ آیا ہندہ کا نکاح ہوا یا نہیں؟ غیر مقلد کہتے ہیں کہ دوسری جگہ پڑھایا جائے اول نکاح درست نہیں۔
جواب
اگر ہندہ بالغہ نے اپنی برداری میں مہر مثل پر یا اس سے زیادہ پر نکاح کیا ہے تو شرعاً یہ نکاح حنفیہ کے نزدیک صحیح ہے اگر غیر برادری میں یعنی چھوٹے خاندان میں نکاح کیا ہے تو مفتی بہ قول کے موافق وہ صحیح نہیں ہوا دوبارہ برادری میں کرے اگر مہر مثل سے کم پر کیا ہے تو ولی یعنی باپ کو اختیار ہے کہ حاکم مسلم کے یہاں درخواست دے اور حاکم شوہر کو بلا کر کہے یا تو مہر مثل پورا کرو ورنہ ہم…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔