الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

ولی کی موجودگی میں غیر ولی کو حق نکاح

سوال

ایک بیوہ عورت نے اپنی لڑکی کے نکاح کا مختار اپنے بھائی کو بنایا اور اس کی معرفت اسی کے مکان پر نکاح ہوا۔ نکاح جس گاؤں میں ہوا وہ گاؤں بیوہ کی سکونت سے پانچ میل ہے۔ نکاح کی اطلاع دور نزدیک سب جگہ کی گئی تھی بارات کئی سو آدمیوں کی آئی تھی جن کی موجودگی میں نکاح ہوا کچھ پتہ کسی کو نہیں چلا کہ اس میں لڑکی کے تایا اور چا کی اجازت ہے یا نہیں کیوں کہ تایا چا کی طرف سے انکار معلوم نہیں ہوا نہ یہ علم ہوا کہ وہ رضا مند نہیں ہیں۔ لڑکی کی عمر اس وقت بارہ یا تیرہ سال تھی۔

جواب

اگر لڑکی نکاح کے وقت بالغہ تھی تب تو اس نکاح میں کوئی تردد ہی نہیں بلکہ بلا تامل صحیح ہے اگر نابالغہ تھی تو اس کے ولی تایا چچا ہیں ایسی صورت میں ماں کو یا ماموں کو ولایت نکاح حاصل نہیں ہے اور جب کہ نکاح لڑکی کے ماموں نے کیا ہے تو وہ تایا چچا کی اجازت پر موقوف ہے اگر وہ رد کر دیتے ہیں تو رد ہو جاتا لیکن انھوں نے رد نہیں کیا بلکہ لڑکی کے شوہر سے اس کے نکاح ثانی کر لینے سے تقاضا…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو