اہل حدیث لڑکی کا نکاح دیو بندی حنفی سے
سوال
(۱) اگر کسی اہل حدیث لڑکی کا نکاح کسی حنفی دیوبندی لڑکے سے کر دیا جائے تو لڑکی کو اپنے عقیدہ ومذہب پر قائم اور اس کے مطابق عمل کرنے کا حق باقی رہتا ہے کہ نہیں؟ سوال: (۲) اہل حدیث لڑکی اپنا عقیدہ ومذہب تبدیل کئے بغیر حنفی دیوبندی لڑکے کی بیوی رہ سکتی ہے یا نہیں؟ نیز یہ بتائیں کہ کیا حنفی دیو بندی شوہر یا اس کے خاندان کے لوگ زبر دستی دباؤ دے کر اور طلاق کی دھمکی دے کر اہل حدیث لڑکی کو مذہب وعقیدہ تبدیل کرنے پر مجبور کر سکتے ہیں؟ اور کیا جیٹھ، دیور وغیرہ سے پردہ نہیں ہے؟
جواب
حنفی دیوبندی اور اہل حدیث کے درمیان رفع یدین، آمین بالجہر، تورک، قنوت، تعداد وتر، تعداد تراویح جمعه فى القرى، قرأة خلف الامام وغیرہ فروعی مسائل میں اختلاف ہے۔ دونوں کے پاس دلائل ہیں بحث دلائل کی قوت وضعف میں ہے، ترجیح ونسخ میں ہے۔ ان میں سے بعض میں تو اولی اور غیر اولی کا اختلاف ہے۔ بعض میں واجب وغیر واجب کا اختلاف ہے۔ بایں ہمہ عقیدہ ایمانیہ جو کہ حدیث جبرئیل میں مفصل مذکور ہے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔